قادیانیت اسلام اور نبوت محمدی کے خلاف ایک بغاوت حصہ 2

مرزا قادیانی کے دعاوی مرزا غلام احمد قادیانی جو ذہنی انتشار کا مریض تھا لے اور بڑی شدت سے اپنے دل میں یہ خواہش رکھتا تھا کہ وہ ایک نئے دین کا بانی بنے۔ اس کے کچھ متبعین اور مؤمنین ہوں اور تاریخ میں اس کا ویسا ہی نام اور مقام ہو جیسا جناب رسول اللہ کا ہے۔ انگریزوں کو اس کام کے لئے موزوں شخص نظر آیا اور گویا انہیں اس کی شخصیت میں ایک ایجنٹ مل گیا۔ جو ان کے اغراض کے لئے مسلمانوں میں کام کرے۔ چنانچہ اس نے بڑی تیزی سے کام شروع کیا۔ پہلے منصب تجدید کا دعوی کیا۔ پھر ترقی کر کے امام مہدی بن گیا۔ کچھ دن اور گزرے تو مسیح موعود ہونے کی بشارت ہوگئی اور آخر کار نبوت کا تخت بچھا دیا اور انگریز نے جو چاہا تھا وہ پورا ہو گیا۔ مرزا قادیانی نے اپنا پارٹ بڑی خوبی سے ادا کیا اور انگریز نے بھی اس کی سرپرستی میں کوئی کمی نہیں کی۔ اس کی حفاظت بھی کی اور ہر طرح کی سہولتیں اس کے کام میں پہنچا ئیں۔ مرزا قادیانی نے بھی گورنمنٹ کے ان احسانات کو فراموش نہیں کیا اور ہمیشہ اس بات کا معترف رہا کہ اس کا نمود بر طانیہ عظمی کا رہین منت ہے۔ چنانچہ اپنی ایک تحریر ( عرض بحضور گورنر پنجاب تاریخ ۱۴؍ فروری ۱۹۹۸ء تفصیل کے لئے دیکھئے میر قاسم علی کی کتاب " تبلیغ رسالت " ج 7) میں خود کو حکومت برطانیہ کا خود کاشتہ پودا قرار دیتا ہے اور ایک جگہ اپنی وفاداریوں اور خدمت گزاریوں کو گناتے ہوئے لکھتا ہے کہ: "میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریز کی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتا بیں لکھیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتا ہیں اکٹھا کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کامل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔" ( تریاق القلوب ص ۱۵، خزائن ج ۵ ص ۱۵۵) ایک دوسری جگہ لکھتا ہے: ” میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں ۔ تاکہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیر دوں۔“ ( مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۱۱) ایک اور جگہ کہتا ہے کہ: "میں نے بیسیوں کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں اس غرض سے تالیف کی ہیں کہ اس گورنمنٹ محسنہ کے سچے دل سے اطاعت کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے۔ چنانچہ میں نے یہ کتابیں میں بصرف زر کثیر چھاپ کر بلاد اسلام میں پہنچائی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ان کتابوں کا بہت سا اثر اس ملک (ہندوستان ) پر بھی پڑا ہے اور جو لوگ میرے ساتھ مریدی کا تعلق رکھتے ہیں وہ ایک ایسی جماعت تیار ہو جاتی ہے کہ جن کے دل اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی سے لبالب ہیں۔ ان کی اخلاقی حالت اعلیٰ درجہ پر ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ وہ تمام اس ملک کے لئے بڑی برکت ہیں اور گورنمنٹ کے لئے دلی جاں نثار " (مجموعہ اشتہارات ج ۲ ص ۳۶۶، ۳۶۷))

Comments

Popular posts from this blog

ہارپ ٹکنالوجی

Ai Tools reality

Sura Adeiat