ختم نبوت اور ہماری ذمہ داری 3

ختم نبوت کے مجاہد کیلئے آگ کا گل و گلزار بن جاتا ہے حضرت ابو مسلم خولانی جن کا نام عبداللہ بن ثوب ہے، یمن میں پیدا ہوئے اور سرکار دو عالم علیہ السلام کے عہد مبارک میں ہی ایمان لا چکے تھے، لیکن رحمت دو عالم کی خدمت میں حاضری کا موقع نہیں ملا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری دور میں یمن میں نبوت کا جھوٹا مدعی ”اسود عنسی" پیدا ہوا ، جو لوگوں کو اپنی جھوٹی نبوت پر ایمان لانے کیلئے مجبور کیا کرتا تھا، اسی دوران اس نے ابو مسلم خولائی کو پیغام بھیج کر اپنے پاس بلایا اور اپنی جھوٹی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دی، حضرت ابو مسلم نے انکار کیا، پھر اس نے پوچھا کیا تم حضرت محمدصلی الله عليه وسلم کی رسالت پر ایمان رکھتے ہو ؟ حضرت ابو مسلم نے جواب دیا ہاں ، اس پر اس نے ایک خوفناک آگ دہکائی، اور حضرت ابو مسلم کو اس میں ڈال دیا، لیکن اللہ پاک نے اس آگ کو بے اثر فرمادیا اور حضرت ابو مسلم اس آگ سے صحیح سلامت نکل آئے۔ (آئینه قادیانیت ص ۳۰) ایک صحابی کا ختم نبوت کے تحفظ کی خاطر اپنے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کروانا: حضرت حبیب بن زید انصاری کو حضور اقدس صلی الله عليه وسلم نے یمامہ کے قبیلہ بنو حنیفہ کے مسیلمہ کذاب کی طرف بھیجا۔ مسیلمہ کذاب نے حضرت حبیب سے کہا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ؟ حضرت حبیب نے فرمایا ہاں ! مسیلمہ نے کہا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں بھی اللہ کا رسول ہوں ؟ حضرت حبیب نے فرمایا ” میں بہراہوں تیری بات نہیں سن سکتا، مسیلمہ بار بار سوال کرتا رہا وہ یہی جواب دیتے رہے اور مسیلمہ کذاب ان کاایک ایک عضو کا ٹتا رہا، حتی کہ حبیب بن زید کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے انہیں شہید کر دیا گیا۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ حضرات صحابہ عقیدہ ختم نبوت سے کس طرح والہانہ تعلق رکھتے تھے۔ اللہ پاک اپنی رحمت اور فضل سے ہمیں بھی اس کا کوئی ذرہ نصیب فرما دے تو بخشش کیلئے کافی ہو جائے گا۔ (آئینہ قادیانیت ص ۲۸)

Comments

Popular posts from this blog

ہارپ ٹکنالوجی

Ai Tools reality

Sura Adeiat