قادیانیت اسلام اور نبوت محمدی کے خلاف ایک بغاوت حصہ

بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله وحده والصلوة والسلام على من لا نبي بعده قادیانیت اسلام اور نبوت محمدی کے خلاف ایک بغاوت میں اس مقالہ میں ایک ایسے مسئلے پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں جو ہر مسلمان کی توجہ کا مستحق ہے۔ خواہ وہ کسی ملک میں بستا ہو ۔ اس لئے کہ اس کا تعلق اسلام کے بعض بالکل بنیادی اصولوں سے ہے۔ اگر مسلمانوں نے اس سے غفلت برتی تو اس کا قوی خطرہ ہے کہ یہ معاملہ ایسی تکین شکل اختیار کرلے کہ پورے عالم اسلامی اور پورے نظام اسلامی کے لئے شدید خطرہ بن جائے اور پھر اس کی تلافی ممکن نہ ہو۔ علمی اور تاریخی حیثیت سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ قادیانیت فرنگی سیاست کے بطن سے وجود میں آئی ہے۔ صورت یہ ہے کہ انیسویں صدی کے ربع اول میں ہندوستان کے مشہور و معروف مجاہد حضرت سید احمد شہید (۱۲۴۶ھ) نے جو جہاد کی تحریک چلائی۔ اس سے مسلمانوں کے سینوں میں اسلامی شجاعت اور حوصلہ مندی موجزن ہونے لگی اور وہ ہزاروں کی تعداد میں سر ہتھیلیوں پر لئے ہوئے اس تحریک کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گئے۔ جس کی سرگرمیاں برطانوی حکومت کے لئے پریشانی اور تشویش کا باعث تھیں۔ ادھر سوڈان میں شیخ محمد احمد سوڈانی نے جہاد اور مہدویت کا نعرہ بلند کیا۔ جس سے سوڈان میں برطانیہ کا اقتدار تزلزل میں آ گیا۔ اس کو معلوم تھا کہ یہ چنگاری اگر بھڑک اٹھی تو پھر قابو میں نہیں آئے گی ۔ اور پھر سید جمال الدین افغانی کی تحریک اتحاد اسلامی" کو اس نے پھیلتے اور مسلمانوں میں مقبول ہوتے دیکھا۔ اس نے ان سب خطرات کو محسوس کیا۔ اس نے مسلمانوں کے مزاج و طبیعت کا گہرا مطالعہ کیا تھا اور اس کو معلوم تھا کہ ان کا مزاج ، دینی مزاج ہے۔ دین ہی انہیں گرماتا ہے اور دین ہی انہیں سلا سکتا ہے۔ لہذا مسلمانوں پر قابو پانے کی واحد شکل یہ ہے کہ ان کے عقائد پر اور ان کے دینی میلان اور نفسیات پر قابو پایا جائے۔ مسلمانوں کے مزاج میں نفوذ حاصل کرنے کے لئے دین کے سوا کوئی ذریعہ نہیں۔ اس مقصد کے لئے برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ مسلمانوں ہی میں سے کسی شخص کو ایک بہت اونچے دینی منصب کے نام سے ابھارا جائے کہ مسلمان عقیدت کے ساتھ اس کے د جمع ہو جائیں اور وہ انہیں حکومت کی وفاداری اور خیر خواہی کا ایسا سبق پڑھائے کہ گریزوں کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہ رہے۔ یہ حربہ تھا جو برطانوی حکومت نے اختیار کیا۔ کہ مسلمانوں کا مزاج بدلنے کے لئے کوئی حربہ اس سے زیادہ کارگر نہیں ہوسکتا تھا۔

Comments

Popular posts from this blog

ہارپ ٹکنالوجی

Ai Tools reality

Sura Adeiat