عقیدہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داری 4
۔
محدث العصر علامہ انور شاہ صاحب کشمیری کا عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے 500 علماء سے بیعت لینا:
محدث العصر سید انور شاہ کشمیری نے1930ء کو لاہور میں 500 علماء کرام کو جمع کیا اور اپنا درد دل کھول کر پیش کرتے ہوئے کہا ” مسلسل اس سوچ کی وجہ سے میری راتوں کی نیند حرام ہو چکی ہے کہ خدا ناخواستہ اگر فتنہ قادیانیت کامیاب ہو گیا تو ہم حضورصلی اللہ علیہ وسلم
کو کیا منہ دکھلائیں گے ؟ ہماری نمازیں اور تہجد اور قرآن و حدیث پڑھانا کس کام آئے گا؟ میں گزشتہ چھ ماہ سے رات بھر خدا تعالیٰ کے دربار میں سر بسجود ہو کر دعائیں کر رہا ہوں، جس کے بعد میرے دل میں یہی بات آتی ہے کہ علماء کرام میں ایک بڑی جماعت اس فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کیلئے اپنے آپ کو وقف کر دے اور میری تجویز ہے کہ ہم سب اس نوجوان یعنی سید عطاء اللہ بخاری کو امیر شریعت مقرر کر کے ان کے ہاتھ پر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی بیعت کریں۔ تمام علماء کرام نے اس کو من جانب اللہ سمجھتے ہوئے فوری طور پر بیعت کر لی۔ امیر شریعت نے اس موقع پر فرمایا ” یہ میرے ہاتھ پر بیعت نہیں ہے بلکہ حضرت علامہ انور شاہ صاحب کشمیری کے ہاتھ پر بیعت ہے اور میں اس عہد کو ان شاء اللہ نبھا کر دکھاؤں گا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ امیر شریعت نے اس عہد کو کیسے نبھا کر دکھایا۔
(ماہنامہ لولاک شماره ۱۱ ۲۰۱۰، ص ۷۱۳ )
Comments
Post a Comment